Type Here to Get Search Results !

مظلوم بچے، صہیونی بربریت اور عالمی اداروں کی نا کامی

تحریر: وقار حسین روش
ہر سال 20 نومبر کوبچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

یہ دن 1959 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔

بچوں کے عالمی دن کے منانے کےمقاصد:
1- بچوں کے حقوق کی حفاظت و تشہیر کرنا۔
2- بچوں کی صحت، تعلیم، اور فلاح و بہبود 
3- بچوں کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی
4- بچوں کے خلاف استحصال اور تشدد کا خاتمہ

اس مقصد کے حصول لیے مختلف ممالک میں تقریبات اور پروگرام کیے جاتے ہیں۔
لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ آج غزہ میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ عالمی ادارے، جیسے کہ اقوام متحدہ، انسانیت پسند تنظیموں، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن غزہ کے بچوں کے لیے کوئی خاطر خواہ کام انجام نہیں دیا۔

آج غزہ میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں تاریخ کی اوج پر ہیں۔
صیہونی فوج کی کارروائیوں اور ہوائی حملوں میں بچوں کی ہلاکتیں دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ مغرب کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہے کہ ہم انسای حقوق کے علمبردار ہیں۔ 

تعلیم، صحت، اور بنیادی ضروریات تک رسائی کی محدودیت سے لے کر 
ذہنی صدمے اور جذباتی دباؤ نے آج غزہ کے بچوں کو ابتدائی عمر میں ہی مفلوج کر دیا ہے لیکن کہاں ہیں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے ؟
اس جنگ نے بچوں کی گرفتاری اور حراست میں اضافہ جب کہ نقل و حرکت کی آزادی کو بھی محدود کر دیا ہے۔
عالمی ادارے، جیسے کہ اقوام متحدہ کی بچوں کی ایجنسی (UNICEF)، امنسٹی انٹرنیشنل، اور ہیومن رائٹس وچ، نے غزہ میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر مختلف رپورٹیں تو جاری کی ہیں لیکن آیا اس پورے عرصے میں انہوں نے کوئی ایسا ایک کام بھی انجام دیا ہے جس نے غزہ کے مظلوم بچوں کے زخموں میں مرحم کی صورت اختیار کی ہو؟ ۔

اس معاملے پر عالمی برادری کو بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے عملی طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

دنیا دیکھ رہی ہے کہ صیہونی فوجی کارروائیوں اور ہوائی حملوں میں بچوں کی ہلاکتوں سے دنیا میں ظلم کا ایک نیا باب ایجاد کر دیا ہے،بچے اکثر اپنے گھروں اور سکولوں کے قریب ہی زخمی یا شہید ہو رہے ہیں لیکن اس ظلم و ستم کو بے نقاب کرنے کے لیے عالمی سطح پر عملی کام کیوں نہیں ہورہا ؟- 

تعلیم، صحت، اور بنیادی ضروریات تک رسائی کی محدودیت غزہ میں بچوں کو سکول جانے اور صحت کی سہولیات حاصل کرنے کے خواب سے دوری اور محرومی کا عملی احساس دلا رہی ہے جس کو دنیا دیکھ رہی ہے لیکن کہاں ہیں انکے دعوے کہ ہر بچہ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کا حق رکھتا ہے؟ 
کیا بچوں کے حقوق سے مراد یہودیوں کے بچوں کے حقوق ہیں؟
کیا بچوں کے حقوق صرف مغرب میں پیدا ہونے والے بچوں کے لئے ہیں؟
جی ہاں ان تمام تلخ حقائق اور سوالات کو سامنے رکھ کر آج ہر زندہ دل فرد یہ کہتا ہے کہ آج وہ سب دعوے دار جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں جو انسانیت کے نعرے بلند کرتے تھے۔ 
غزہ کی صورتحال نے آج ہر دہرے چہرے اور کردار بلخصوص مغرب کو بے نقاب کر دیا ہے۔۔۔

Post a Comment

0 Comments